21 جون 2013 - 19:30
طالبان سے مذاکرات ، امریکہ کی شکست کا مظہر

جرمن کے ہفت نامہ اسپیگل نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو امریکہ اور مغربی ممالک کی افغانستان جنگ میں شکست کا مظہر قراردیا ہے۔

ابنا: امریکہ نے افغانستان میں طالبان شدت پسندوں کے ساتھ  بارہ سالہ جنگ کے دوران ہزاروں افراد کو قتل ، بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ بنایا اور اب طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے ذریعہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے جرمن ہفت نامہ کے مطابق امریکہ اب افغانستان سے خاموشی کے ساتھ نکلنا چاہتا ہے۔جرمن ہفت نامہ کے مطابق 2007 ء میں جرمن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سربراہ نے تمام افغان گروہوں منجملہ طالبان سے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی جس پر افغان وزیر خارجہ نے تنقید کی تھی  لیکن  مزید چھ سال جنگ و خونریزی کےبعد جرمن کے اس سیاستمدار کے ںظریہ پر عمل کیا گیا۔ اشپیگل کے مطابق طالبان سے امریکہ کے خفیہ مذاکرات کئی برسوں سے جاری ہیں لیکن اب طالبان باقاعدہ طور پر مذاکرات کی میز پر حاضر ہونے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔2001 میں افغان جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک ہزاروں افغانی شہری لقمہ اجل بن گئے سیکڑوں امریکی اور اتحادی فوجی امریکی حکام کی تسلط پسندی بھینٹ چڑھ گئے اور اب امریکہ خاموشی کے ساتھ طالبان کے ساتھ ملکر افغان سے نکل رہا ہے۔ اشپیگل کے مطابق امریکہ نے جہاں بھی قدم رکھا وہاں تباہی مچائی ہے اور افغانستان بھی بارہ سال میں امریکہ اور طالبان کی مشترکہ بربریت کا نشانہ بنا رہا، طالبان کی داغ بیل امریکہ نے ہی ڈآلی تھی اور آج امریکہ ان کے ساتھ ہاتھ ملاکر افغانستان سے نکل رہا ہے۔......./169